ﺍﻧﻮ ﺟﺎﻧﯽ ! ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﻂ ﻣﻼ، ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺩﯾﺒﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺮ ﻣﺮ ﮐﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺎ ﺑﯿﮍﺍ ﻏﺮﻕ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻟﮓ ﮐﻮﺍﺭﭨﺮ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ۔ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﺯﯾﺪﯼ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺍﭨﺮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ، ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ ﻧﺜﺮﯼ ﻧﻈﻢ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ، ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﮉ ﺭﻭﻡ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﻮﺍﺭﭨﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﮯ، ﻣﯿﺮ ﺗﻘﯽ ﻣﯿﺮ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ 250 ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﻥ ﮐﺎ ﻓﻘﺪﺍﻥ ﺗﮭﺎ، ﻧﮑﺎﻝ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ۔ ﮐُﻮﭼﮧ ﺷﻌﺮ ﻭ ﺳﺨﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮔﮭﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﮐﺎ ﮨﮯ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﯿﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺁﭖ ﻏﺎﻟﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺷﺎﻋﺮ ﮨﯿﮟ ﺁﭘﮑﺎ ﮔﮭﺮ ﺍﯾﻮﺍﻥِ ﻏﺎﻟﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ، ﻣﯿﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ، ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﮐﮯ ﺳﺴﺮﺍﻝ ﮐﺎ ﮨﮯ، ﻏﺎﻟﺐ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻗﺒﻀﮧ ﺟﻤﺎ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔ﻣﯿﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ، ﺳﺎﻝ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻧﺎﺻﺮ ﮐﺎﻇﻤﯽ ﺁﺋﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮ ﮐﮯ ﮐﺒﻮﺗﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ۔ﺍﯾﻮﺍﻥِ ﻏﺎﻟﺐ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺑُﺮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﺮﻧﺎ ،
ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ “ ﺑﺎﺭ ” ﮨﻮﺗﺎ۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺁﮐﺮ ﯾﮧ ﻣﺼﺮﻋﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ “ ﺑﺎﺭ” ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔
ﺩﻭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻏﺎﻟﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﻨﯿﺮ ﻧﯿﺎﺯﯼ ﻧﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺘﮧ ﮐﺎﭦ ﺩﯾﺎ۔ ﺳﻮﺩﮦ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻮﺍﺭﭨﺮ ﺳﮯ ﺳﻮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮔﯿﺎ، ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﻣﯿﺎﮞ ! ﺗﻢ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻮﺩﺍ ﻻ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﻭ۔ ﻣﺎﻥ ﮔﯿﺎ۔ ﺳﻮﺩﮦ ﮐﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﻻﻧﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﻋﺰﺕ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺎﻧﯽ ! ﺟﺐ ﺳﻮﺩﮦ ﺣﺴﺎﺏ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ، ﺣﻠﻮﮦ ﮐﯿﺎ ﻧﯿﺎﺯ ﻓﺘﺢ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ؟، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭨﯿﻨﮉﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﭘﮧ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺷﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺩﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ﭼﺎﺭ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺩﻭ ﺍﺩﺏ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﺷﺎﻋﺮ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﺳﯽ ﻻﮐﮫ ﮐﯿﺶ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺁﭘﮑﮯ ﭨﯿﻨﮉﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﻤﺎﺅﮞ ﮔﺎ۔ﺁﭘﮑﻮ ﺑﮍﺍ ﺷﺎﻋﺮ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺍ، ﺁﭘﮑﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ، ﺁﭘﮑﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔ﺁﺋﯿﻨﺪﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﻓﯿﺾ سے منگوایا کیجیئے، تاکہ آپکا تھوڑا بہت قرض تو چکائیں۔میرے ہاتھ میں بینگن تھا، وہ ان کو تمایا اور کہا: بینگن کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں ایک شہد کی نہر کے کنارے احمد فراز سے ملاقات ہوئی، میں نے کہا میرے بعد آئے ہو اس لئے خود کو بڑا شاعر مت سمجھنا، فراز نے کہا، مشاعرے میں نہیں آیا۔ پھر مجھ سے کہنے لگے، امراؤ جان کہاں رہتی ہے؟ میں نے کہا، رسوا ہونے سے بہتر ہے گھر چلے جاؤ، مجھے نہیں معلوم کہا وہ کہاں رہتی ہے۔
جانی! ایک حُور ہے جو ہر جمعرات کی شام میرے میرے گھر آلو کا بھرتا پکا کے لے آتی ہے۔ شاعری کا بھی شوق ہے، خود بھی لکھتی ہے، مگر جانی! جتنی دیر وہ میرے گھر رہتی ہے صرف مشتاق احمد یوسفی کا ذکر کرتی ہے۔ اس کو صرف مشتاق احمد یوسفی سے ملنے کا شوق ہے۔ میں نے کہا، خدا ان کو لمبی زندگی دے، پاکستان کو ان کی بہت ضرورت ہے، اگر ملنا چاہتی ہو تو زمین پر جاؤ، جس قسم کی شاعری کر رہی ہو کرتی رہو، وہ خود تمہیں ڈھونڈ نکالیں گے اور پکنک منانے سمندر کے کنارے لے جائینگے۔ابنِ انشاء، سید محمد جعفری، دلاور فگار، فرید جبال پوری اور ضمیر جعفری ایک ہی کوارٹر میں رہتے ہیں۔ ان لوگوں نے 9 نومبر کو اقبال کی پیدائش کے سلسلے میں ڈنر کا اہتمام کیا تھا۔اقبال، فیض، قاسمی، صوفی تبسم، فراز اور ہم وقتِ مقررہ پر پہنچ گئے۔کوارٹر میں اندھیرا تھا اور دروازے پر پرچی لگی تھی: “ہم لوگ جہنم کی بھینس کے پائے کھانے جا رہے ہیں، ڈنر اگلے سال 9 نومبر کو رکھا ہے۔”اگلے دن اقبال نے پریس کانفرنس کی اور ان سب کی ادبی محفلوں میں شرکت پر پابندی لگا دی۔
تم نے اپنے خط میں مشفق خواجہ کے بارے میں پوچھا تھا۔ وہ یہاں اکیلے رہتے ہیں، کہیں نہیں جاتے ۔ مگر حیرت کی بات ہے جانی!میں نے ان کے گھر اردو اور فارسی کے بڑے بڑے شاعروں کو آتے جاتے دیکھا ہے۔یہاں آنے کی بھی جلدی نہ کرنا کیونکہ تمہارے وہاں رہنے میں میرا بھی فائدہ ہے۔اگر تم بھی یہاں آگئے پھر وہاں مجھے کون یاد کرے گا؟؟؟
جیتے رہو اور کسی نہ کسی پر مرتے رہو،ہم بھی کسی نہ کسی پر مرتے رہے مگر جانی! جینے کا موقع نہیں ملا
– جون ایلیا